16 مئی 2026 - 15:17
جب تک میں اقتدار میں ہوں چین تائیوان پر حملے کی جرأت نہیں کر سکتا، ٹرمپ

امریکی صدر نے چین سے واپسی پر فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے تائیوان کے بارے میں بیجنگ کے خلاف سخت بیان دیا اور ایران کے بارے میں اپنے بار بار دعوؤں کو دہرایا؛ جبکہ بیجنگ میں شی جن پنگ کی خوب خوب چاپلوسی کرتا رہا تھا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین سے واپسی پر فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے تائیوان کے بارے میں سخت بیان دیتے ہوئے کہا کہ 12 سال قبل چینی صدر سے میری پہلی ملاقات کے بعد سے تائیوان کا مسئلہ ان کی اولین ترجیح رہا ہے۔

یعنی اولین ترجیح اسرائیل نہیں تھا!۔

ٹرمپ نے چین کے دورے میں صدر شی جن پنگ کی مدح سرائی میں کوئی کسر نہيں چھوڑی لیکن امریکہ پہنچتے ہی اور اپنے چہیتے چینل ـ فاکس نیوز ـ کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنی شیخیوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا اور دعویٰ کیا کہ "جب تک میں اقتدار میں ہوں چین تائیوان کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔"۔

ٹرمپ، جو وسیع ملاقاتوں اور شی جن پنگ کی تعریفوں میں زمین آسمان کے قلابے ملاتا نظر آیا، جمعہ کی سہ پہر کو بیجنگ سے واشنگٹن کے لئے روانہ ہؤا، اور عجیب دعویٰ کیا کہ "اگر میں وہاں نہ ہوتا تو چین تائیوان کے خلاف کچھ بھی کر سکتا تھا۔"

حالانکہ رپورٹوں کے مطابق، چین نے اس ملاقات سے پہلے، تائیوان کے ساتھ بہت اچھا برتاؤ رکھا اور تیل کی قلت کی رو سے، اس کی ضروریات پوری کرنا کا وعدہ بھی کیا۔ (آئی کیو ٹیسٹ یا نہیں بلکہ ایم ایچ ٹیسٹ کا مشورہ)

امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ "چینی صدر نے ایران اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر، بہت اچھا کام کیا"؛ اور ساتھ ہی دعویٰ کیا: "میں نے بیجنگ سے کہا کہ واشنگٹن کو ایران کے معاملے یا آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو محفوظ بنانے کے معاملے میں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے!"۔

تضادات کا مجموعہ وہ بھی صرف چند ثانیوں اور صرف دو جملوں میں۔

ٹرمپ نے فاکس نیوز کو مزید بتایا: "چین اپنی تیل کی 40 فیصد ضروریات کے لیے آبنائے ہرمز پر انحصار کرتا ہے۔ چینی صدر ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کی ضرورت پر مجھ سے متفق ہیں"۔

امریکہ سمیت، چین اور دنیا کے تمام ـ ممالک جانتے ہیں کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے، رکھنے اور استعمال کرنے کا قائل ہی نہیں ہے، لیکن چین نے ٹرمپ کے دورے کے دوران ہی موقف اختیار کیا کہ ایران کو جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کا پورا حق حاصل ہے، صرف ٹرمپ اور اس کا آقا نیتن یاہو، ایران کے لئے اس بین الاقوامی قوانین کے مطابق تسلیم شدہ حق کے قائل نہیں ہیں۔

عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کا جواز پیش کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا: "میں تیل کی قیمتوں کو 200 ڈالر تک قبول کرنے کے لیے تیار تھا، تاکہ انہیں جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جا سکے جنہیں وہ لامحالہ ہمارے خلاف استعمال کریں گے!

یہ ٹرمپیہ (ٹرمپ کا دعویٰ) صرف تیل کی قیمتوں میں اضافے کا جواز ہی نہ تھا بلکہ ایران پر جارحیت کا جواز فراہم کرنے کے لئے بھی تھا، کیونکہ اس نے یہ جنگ ایرانی حکومت کے خاتمے، ایران کے حصے بخرے کرنے اور ایرانی تیل کو بحق امریکہ ضبط کرنے کی غرض سے مسلط کی تھی، اور یہ صرف حیلے بہانے اور لاچارگی چھپانے کے بہانے ہیں۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کا جوہری خطرہ اسرائیل، مشرق وسطیٰ اور یورپ کو نشانہ بنا رہا تھا!

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ عارضی تھا؛ میں نے یورپ پر بڑا احسان کیا تاکہ پاگلوں کے حملے کے خطرے سے بچا جا سکے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹرمپ نے حملہ کرکے یہ خطرہ ٹال دیا اور ایران کی جوہری صلاحیت ختم کردی، تو اگر ایسا ہے تو پھر ایران سے یورینیم کیوں مانگ رہا ہے؟ (تضاد پر تضاد)

اگلا ٹرمپیہ یہ تھا کہ: "آبنائے ہرمز کھلا رہے گا اور ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ان کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں اور عالمی استحکام برقرار رہے۔"

اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹرمپ کو ایران کے جوہری ہتھیار نہ بنا پانے کا ابھی تک یقین نہیں؛ تو پھر اس نے کونسا خطرہ ٹال دیا؟

ایک ٹرمپیہ یہ تھا کہ: "ایران آبنائے ہرمز کو میرے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کر سکتا۔"

فاکس نیوز کے میزبان کے اس سوال پر "کیا آیا اسں نے ایران کو کم سمجھا [Underestimate کیا] ہے، تو اس نے کہا، "میں نے کسی چیز کو کم نہیں سمجھا... میں ان کے پل اور ان کی بجلی کی صلاحیت 2 دن میں ناکارہ بنا سکتا ہوں!"

اوٹ پٹانگ ٹرمپیات، بے بسی کی انتہا۔

نکتہ:

فاکس نیوز کے ساتھ انٹرویو میں جھوٹ بھی بہت بولا گیا ہے اور چین پر غصہ بھی اتارا گیا ہے جس کی صاف وجہ یہ ہے کہ ٹرمپ خالی ہاتھ گیا تھا خالی ہاتھ آیا ہے اور وہ مقاصد حاصل نہیں کرسکا ہے، جو وہ چاہتا تھا اور ایران جنگ کے حوالے سے بھی چین کو اپنے ساتھ ملانے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 جب تک میں اقتدار میں ہوں چین تائیوان پر حملے کی جرأت نہیں کر سکتا، ٹرمپ

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha